پٹھان (پختون) قوم کے بارے میں تاریخی معلومات 80

پٹھان (پختون) قوم کے بارے میں تاریخی معلومات

فارسی میں پشتون مقامی زبان میں پختون اور اردو میں پٹھان یہ قوم دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ایک غیرت مند قوم کے طور پر گردانی جاتی ہے.جن میں افغانستان، پاکستان، بھارت اول نمبر پر ہیں. دنیا میں پشتون اپنی وفا اور غیرت کے نام سے جانے جاتے ہیں. لفظ پشتون کا مطلب ہوتا ہے غیرت و وفا والا اور اپنے عزت اور دین پر مر مٹنے والا پشتونوں نے قیام پاکستان میں بھی بھرپور حصہ لیا. پشتون کی اصلاح عموما پٹھان اور افغان پشتو بولنے والے قبائل کے لئے استعمال ہوتی ہے. بعض اوقات پٹھانوں اور افغانوں کے درمیان امتیاز بھی کیا جاتا ہے. لیکن یہ سارے پٹھان ہی کہلاتے ہیں. اور پٹھان اور افغان کو الگ الگ قبیلوں سے تصور کرتے ہیں. اور ان ناموں کی وجہ تسمیہ اور تاریخ الگ الگ بیان کرتے ہیں. بہر حال میں بحثیت مجموعی ان سب کا تذکرہ کرنے میں ہی عافیت سمجھتا ہوں. کیونکہ زیادہ تفصیل میں گیا تو بات بہے لمبی ہوجائے گی. اپ نے قران پاک میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں پڑھا ہوگا کہ ایک موقع پر انہوں نے ایک پتھر پر اپنا عصا مارا تو بارہ چشمے پھوٹ پڑے کہ ہر چشمہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کے لئے الگ الگ تھا. تو تاریخ دان یہاں سے ہی ان کی تایخ شروع کرتے ہیں. اسرائیل کی ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق پشتون یا پٹھان یہودی النسل ہیں اور ان کا تعلق بنی اسرائیل کے دس گمشدہ قبائل سے ہے. کیونکہ اس وقت جتنے بھی یہودی ہیں وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے دو قبیلوں سے تعلق رکھتے ہیں. جب کہ بقیہ دس اپنا مذہب تبدیل کرچکے ہیں. یا ان کا کوئی پتہ معلوم نہیں ہو رہا. ان دس قبائل کو اسرائیل کی تباہی کے بعد فاتحین نے جلا وطن کردیا تھا جس کے بعد رفتہ رفتہ یہ لوگ پہلے ایران پھر افغانستان اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں اباد ہو گئے جبکہ جیوش اٹلس میں صوبہ سندھ کی قدیم بندرگاہ دیبل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ بندرگاہ یہودی تاجروں کی بہت بڑا مرکز تھی. بنی اسرائیل کے تاجر زمانہ قدیم میں بذریعہ بحری جہاز سندھ اور بلوچستان کی بندرگاہوں پر اتے رہے اس لئے ان دونوں صوبوں کے بیشتر شہروں اور بندرگاہوں میں یہودیوں کے تجارتی مراکز اور عبادت گاہیں قائم ہوگئی تھیں جس کی وجہ سے زمانہ قدیم میں پاکستان کے بعض علاقوں میں یہودیت کے ماننے والے بھی بڑی تعداد میں موجود تھے. اسرائیل میں بارہ قبائل اباد تھے جنہیں بنی اسرائیل کے اجتماعی نام سے پکارا جاتا تھا. کہا جاتا ہے کہ صرف دو قبائل (اج کے یہودی) توریت پر عمل کرتے ہیں جبکہ باقی اد دس قبائل توریت کو تسلیم نہیں کرتے. لیکن یہ بھی بنی اسرائیل کا حصہ تھے. اج کا شمالی اسرائیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے تقریبا اٹھ سو سال پہلے نینوا کی اشوریہ قوم نے فتح کرلیا تھا جبکہ جوڈا کے نام سے موسوم جنوبی علاقہ پر صدیوں بعد بابل سے انے والے حملہ اوروں نے قبضہ کیا. جب بابل کے فرماں روا بخت نصر نے یرشلم(موجودہ فلسطین) پر قبضہ کر کے اسرائیلی بادشاہت کی اینٹ سے اینٹ بجادی تو بنی اسرائیل کے بہت سےقبیلے بھاگ کر ایران (فارس) کے قریب غور کے پہاڑوں میں جا بسے اور پھر یہاں سے دیگر خطوں تک پھیل گئے. ہزاروں سال سے دنیا میں زمانہ قدیم کے گمشدہ یہودی قبائل کے بارے میں گردش کرنے والی داستانوں‌کے مطابق ایتھوپیا میں اباد فلاشا یہودیوں اور افغانستان، مشرقی ایران اور پاکستان کے پشتون قبائل کو ان یہودیوں کی نسل سمجھا جاتا ہے. پشتون افغانستان میں سب سے بڑا نسلی گروپ اور پاکستان میں دوسرا بڑا نسلی گروہ ہے. خود بعض افغانوں کا بھی دعویٰ ہے کہ ان کے اباواجداد کا تعلق قدیم زمانہ کے یہودیوں سے تھا جبکہ افغانستان کے اخری بادشاہ ظاہر شاہ مرحوم برملا یہ اقرار کرتے رہے کہ ان کا تعلق بنی اسرائیل کے بن یامین قبیلے سے ہے. اس طرح پاکستان اور افغانستان کی نصف ابادی یہودی قبیلے کے بچھڑے بہن بھائیوں پر مشتمل ہے. ان کے مسلمان ہونے کے بارے میں‌تاریخ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ انحضور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں ایک قریش سردار خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان لوگوں کے پاس رسالت کی خبر لے کر ائے اور اس خبر کی تحقیق کے لئے قیس نامی شخص کی قیادت میں چند سرداروں کا وفد ان کیساتھ مکہ روانہ ہوگیا. یہ قبائلی سردار بحثیت مہمان جب مکہ پہنچے تو وہاں نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ملاقات کے بعد اسلام قبول کرلیا جبکہ فتح مکہ کی مہم جوئی میں بھی یہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرکاب رہے. ان سرداروں کو واپسی پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تحفے تحائف بھی دئے اور اس وفد کے امیر قیس کا اسلامی نام عبدالرشید رکھ دیا اسے “پہطان” یا “بطان” کا لقب بھی عطا کیا اور پھر یہی لفظ‌ بگڑ کر پٹھان بن گیا. افغانوں کی روایات کے مطابق بھی امیر قیس کا نام عبدالرشید خود نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ اسلم نے رکھا اور فرمایا کہ ان کی نسل اسلام پر اس قدر مضبوطی سے کاربند ہوگی کہ جس طرح کشتی کا بطان ہوتا ہے اور بھر یہی لقب بعد میں زبان کے تغیرات کے باعث پٹھان بن گیا جبکہ لفظ پختون کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ بخت نصر کے ظلم سے بھاگ کر فارس (ایران) میں پناہ لینے والے قبائل میں سے ایک قبیلے کا نام بنی پخت تھا جس سے تعلق رکھنے والوں کو رفتہ رفتہ پختون کہا کانے لگا. اہل ایران انہیں افغان کہتے ہیں جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ جب بخت نصر نے ان لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا تو یہ لوگ اس ظلم کے خلاف اہ فغاں کرتے رہے. اور ایک بات یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ افغان سلیمان علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام تھا اور ان کو جنات کی زبان سے پیار ہوگیا تھا تو انہوں نے اپنے والد حضرت سلیمان علیہ السلام سے کہا کہ اپ جنات کو کہیں کہ مجھے اپنے زبان سیکھائیں حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی درخواست قبول کی اور جنات کو حکم دیا کہ افغان کو جنات کی زبان سیکھائی جائے وہ زبان بعد میں “پختنو” کے نام سے مشہور ہوگئی. بعض مورخین کے مطابق پٹھان اریائی یا یونانی نسل سے ہیں.اور بعض کے نزدیک یہ قیس عبدالرشید کی اولاد ہیں جبکہ تیسرے نظرئے کے مطابق ان کا تعلق بنی اسرائیل کے گمشدہ قبائل سے ہے. خود کو قیس عبدالرشید کی اولاد سمجھنے والوں کا نظریہ ہے کہ مکہ میں قیام کے دوران حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی صاحبزادی ان کے مورث اعلیٰ کے نکاح میں دیدی تھی جنھیں وہ ہمراہ لے کر اپنے وطن واپس ایا اور پھر انہوں نے یہاں اپنی بقیہ زندگی اسلام کی ترویج واشاعت میں صرف کردی. اس طرح قیس عبدالرشید کی اولاد پٹھان کہلاتی ہے. جبکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خود قیس عبدالرشید کا تعلق بھی بنی اسرائیل کے بادشاہ ساؤل (حضرت طالوت) کی سینتیس پشت سے تھا. اس طرح اخری دونوں نظریات کی روشنی میں ان کا تعلق بنی اسرائیل سے ہی بنتا ہے. سب سے بڑا عجوبہ خیز بات یہ ہے کہ ان میں یوسفزئی (یوسف کے بیٹے) داؤد خیل ( داؤد کے بیٹے) موسیٰ خیل ( موسیٰ کے بیٹے) اور سلیمان خیل (سلیمان کے بیٹے) سمجھے جاتے ہیں لیکن اس کی تصدیق کرنا بہت مشکل ہے کہ موسیٰ خیل ، داؤد خیل ن، یوسفزئی، سلیمان خیل وغیرہ کا قدیم پس منظر کیا ہے. بہر حال اس تاریخ میں اتنی باتیں شامل ہوچکی ہے کہ اصل حقائق کی تصدیق لگ بھگ ناممکن سی ہوگئی ہے. کہ کون سی بات درست ہے اور کون سی جھوٹ. بہر حال ہندوستان والے انہیں پٹھان کہتے ہیں. جبکہ پاکستانی انہیں پٹھان اور پشتون، ایرانی افغانی کہتے ہیں. مگر یہ خود کو پختون کہتے ہیں. یہ لوگ اس وقت متعدد قبائل کا مجموعہ بن چکے ہیں جبکہ ان قبائل کی ہزارہا شاخوں کی متعدد ذیلی شاخیں بھی ہیں جو اشخاص یا علاقے سے منسوب کی گئی ہیں. افغانوں یا پٹھانوں کے کئی اوصاف عربوں سے ملتے جلتے ہیں. عرب قوم مہمان نواز، بہادر اور اہل قلم ہونے کے ساتھ ساتھ دوسری قوموں سے اتنی جلد مرعوب نہیں ہوتی تھی. ان چند اوصاف کے علاوہ کوئی اور اوصاف عربوں کے اندر زمانہ جاہلیت میں نظر نہیں اتے. حیرت کی بات ہے کہ یہی چند اوصاف افغان یا پٹھان قوم میں بھی اسی شدت کیساتھ پائے جاتے ہیں. جبکہ ان کی بیشتر چیزیں یہودیوں سے بھی ملتی جلتی ہیں. نسلی طور پر دونوں اپنے اپ کو دنیا کی بہترین قوم تصور کرتے ہیں. مذہبی طور پر سخت ہیں اور سر پر ٹوپی رکھنے کا رحجان بھی عام ہے جبکہ اسکے علاوہ بھی کئی رسم و رواج مشترک ہیں. ذہن میں رہے کہ پشتونوں کا یہودی النسل سے ہونا قابل فخر بات ہے نہ کہ موجب توہین کیونکہ یہودی النسل ہونا تو شاید تب اس قوم کے لئے توہین کا موجب ہوتا جب وہ سیدنا الانبیاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لاتے . تو تو ان کی غیرت کی بلندی اور ایمان کی عظمت کا نشان ہے کہ یہودی النسل ہوتے ہوئے بھی نبی اخرالزمان صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ایمان لے ائے. کیونکہ یہ وہی اخری نبی ہیں جن کے اوصاف تورات و انجیل میں مذکورہ ہیں اور جن کی وجہ سے ہی اہل کتاب اپ سلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ایک “نجات دہندہ” کے طور پر منتظر بھی تھے لیکن بعد میں انہوں نے محض اس جلن اور حسد کی وجہ سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نبوت کا انکار کیا کہ ان کا تعلق بنی اسرائیل سے نہیں تھا. بنی اسرائیل کی طرف سے اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نبوت کا یہ انکار دلائل پر نہیں بلکہ نسلی منافرت اور حسد و عناد پر مبنی تھا. تو یہ پشتونوں کے لئے قابل فخر بات ہے کہ یہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حواری بھی ہیں اور اخری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سپاہی بھی.

کمنٹس

کمنٹس

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں